9 اشعار

اے ذوقؔ وقت نالے کے رکھ لے جگر پہ ہاتھ

Aye Zauq waqt nale ke rakh le jigar pe haath

اے ذوقؔ وقت نالے کے رکھ لے جگر پہ ہاتھ

«اے ذوقؔ وقت نالے کے رکھ لے جگر پہ ہاتھ» شیخ ابراہیم ذوق کا کلام ہے، جسے زاہدحسین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے ابراہیم ذوق» میں 15 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 14 سیکنڈ ہے۔

اے ذوقؔ وقت نالے کے رکھ لے جگر پہ ہاتھورنہ جگر کو روئے گا تو دھر کے سر پہ ہاتھ

چھوڑا نہ دل میں صبر نہ آرام نے قرارتیری نگہ نے صاف کیا گھر کے گھر پہ ہاتھ

کھائے ہے اس مزے سے غم عشق میرا دلجیسے گرسنہ مارے ہے حلوائے تر پہ ہاتھ

خط دے کے چاہتا تھا زبانی بھی کچھ کہےرکھا مگر کسی نے دل نامہ بر پہ ہاتھ

جوں پنج شاخہ تو نہ جلا انگلیاں طبیبرکھ رکھ کے نبض عاشق تفتہ جگر پہ ہاتھ

قاتل یہ کیا ستم ہے کہ اٹھتا نہیں کبھیآ کر مزار کشتۂ تیغ نظر پہ ہاتھ

میں ناتواں ہوں خاک کا پروانے کی غباراٹھتا ہوں رکھ کے دوش نسیم سحر پہ ہاتھ

اے شمع ایک چور ہے بادی یہ باد صبحمارے ہے کوئی دم میں ترے تاج زر پہ ہاتھ

اے ذوقؔ میں تو بیٹھ گیا دل کو تھام کراس ناز سے کھڑے تھے وہ رکھ کر کمر پہ ہاتھ

— شیخ ابراہیم ذوق

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں