جدا ہوں یار سے ہم اور نہ ہو رقیب جدا
کلام: شیخ ابراہیم ذوق
جدا ہوں یار سے ہم اور نہ ہو رقیب جداہے اپنا اپنا مقدر جدا نصیب جدا
تری گلی سے نکلتے ہی اپنا دم نکلارہے ہے کیوں کہ گلستاں سے عندلیب جدا
مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے ابراہیم ذوق
مہمان شاعر: شیخ ابراہیم ذوق
جدا ہوں یار سے ہم اور نہ ہو رقیب جداہے اپنا اپنا مقدر جدا نصیب جدا
تری گلی سے نکلتے ہی اپنا دم نکلارہے ہے کیوں کہ گلستاں سے عندلیب جدا
اے ذوقؔ وقت نالے کے رکھ لے جگر پہ ہاتھورنہ جگر کو روئے گا تو دھر کے سر پہ ہاتھ
چھوڑا نہ دل میں صبر نہ آرام نے قرارتیری نگہ نے صاف کیا گھر کے گھر پہ ہاتھ