قفل صد خانۂ دل آیا جو تو ٹوٹ گئے
کلام: شیخ ابراہیم ذوق
قفل صد خانۂ دل آیا جو تو ٹوٹ گئےجو طلسمات نہ ٹوٹے تھے کبھو ٹوٹ گئے
سیکڑوں کاسہ سر دہر میں مانند حبابکبھو اے چرخ بنے تجھ سے کبھو ٹوٹ گئے
مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے ابراہیم ذوق
مہمان شاعر: شیخ ابراہیم ذوق
قفل صد خانۂ دل آیا جو تو ٹوٹ گئےجو طلسمات نہ ٹوٹے تھے کبھو ٹوٹ گئے
سیکڑوں کاسہ سر دہر میں مانند حبابکبھو اے چرخ بنے تجھ سے کبھو ٹوٹ گئے
بلائیں آنکھوں سے ان کی مدام لیتے ہیںہم اپنے ہاتھوں کا مژگاں سے کام لیتے ہیں
ہم ان کی زلف سے سودا جو وام لیتے ہیںتو اصل و سود وہ سب دام دام لیتے ہیں