چپکے چپکے غم کا کھانا کوئی ہم سے سیکھ جائے
کلام: شیخ ابراہیم ذوق
چپکے چپکے غم کا کھانا کوئی ہم سے سیکھ جائےجی ہی جی میں تلملانا کوئی ہم سے سیکھ جائے
ابر کیا آنسو بہانا کوئی ہم سے سیکھ جائےبرق کیا ہے تلملانا کوئی ہم سے سیکھ جائے
مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے ابراہیم ذوق
مہمان شاعر: شیخ ابراہیم ذوق
چپکے چپکے غم کا کھانا کوئی ہم سے سیکھ جائےجی ہی جی میں تلملانا کوئی ہم سے سیکھ جائے
ابر کیا آنسو بہانا کوئی ہم سے سیکھ جائےبرق کیا ہے تلملانا کوئی ہم سے سیکھ جائے
کوئی ان تنگ دہانوں سے محبت نہ کرےاور جو یہ تنگ کریں منہ سے شکایت نہ کرے
عشق کے داغ کو دل مہر نبوت سمجھاڈر ہے کافر کہیں دعوائے نبوت نہ کرے