اسے ہم نے بہت ڈھونڈا نہ پایا
کلام: شیخ ابراہیم ذوق
اسے ہم نے بہت ڈھونڈا نہ پایااگر پایا - تو کھوج اپنا نہ پایا
جس انساں کو سگِ دنیا نہ پایافرشتہ اس کا ہم پایا نہ پایا
مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے ابراہیم ذوق
مہمان شاعر: شیخ ابراہیم ذوق
اسے ہم نے بہت ڈھونڈا نہ پایااگر پایا - تو کھوج اپنا نہ پایا
جس انساں کو سگِ دنیا نہ پایافرشتہ اس کا ہم پایا نہ پایا
ترے کوچے کو وہ بیمارِغم دارلشفا سمجھےاجل کو جو طبیب اور مرگ کو اپنی دوا سمجھے
ستم کو ہم کرم سمجھے ، جفا کو ہم وفا سمجھےاور اُس پر بھی نہ سمجھے وہ تو اُس بُت سے خدا سمجھے