11 اشعار

اسے ہم نے بہت ڈھونڈا نہ پایا

Use hum ne bahut dhoondha na paaya

اسے ہم نے بہت ڈھونڈا نہ پایا

«اسے ہم نے بہت ڈھونڈا نہ پایا» شیخ ابراہیم ذوق کا کلام ہے، جسے ملک افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے ابراہیم ذوق» میں 15 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 9 سیکنڈ ہے۔

اسے ہم نے بہت ڈھونڈا نہ پایااگر پایا - تو کھوج اپنا نہ پایا

جس انساں کو سگِ دنیا نہ پایافرشتہ اس کا ہم پایا نہ پایا

مقدر پہ ہی گر سود و زیاں ہےتو ہم نے یاں نہ کچھ کھویا - نہ پایا

سراغِ عمرِ رفتہ ہو - تو کیونکر؟کہیں جس کا نشاں نہ پایا

رہِ گم گشتگی میں ہم نے اپناغبارِ راہ بھی عنقا نہ پایا

رہا ٹیڑھا مثالِ نیشِ کژدمکبھی کج فہم کو سیدھا نہ پایا

احاطے سے فلک کے - ہم تو کب کےنکل جاتے - پر رستا نہ پایا

جہاں دیکھا - کسی کے ساتھ دیکھاکبھی ہم نے تجھے تنہا نہ پایا

کہے کیا ہائے زخمِ دل ہمارا !دہن پایا - لبِ گویا نہ پایا

کبھی تو اور کبھی تیرا رہا غمغرض - خالی دلِ شیدا نہ پایا

نظیر اس کا کہاں عالم میں! اے ذوقکہیں ایسا نہ پائے گا - نہ پایا

— شیخ ابراہیم ذوق

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں