5 اشعار

دام پر دام ہے اداسی کا

Daam par daam hai udasi ka

دام پر دام ہے اداسی کاپیجیے جام ہے اداسی کا

تیری یادوں سے کھیلتا ہوں میںمجھ سے کیا کام ہے اداسی کا

قہقہہ اور اشک آنکھوں میںخوب انجام ہے اداسی کا

لوگ ملتے نہیں ہیں لوگوں سےنام بدنام ہے اداسی کا

انگلیاں اٹھ رہی ہیں دانش پراس پہ الزام ہے اداسی کا

— تنویر دانش