6 اشعار

میں اپنے قد سے جو ہاتھ اونچا اٹھا رہا ہوں

Main apne qad se jo haath ooncha utha raha hoon

میں اپنے قد سے جو ہاتھ اونچا اٹھا رہا ہوںیقین مانو کہ بس تعلق نبھا رہا ہوں

یہ چاند تاروں کی لو کو کس نے بڑھا دیا ہےخبر یہاں پر ہے کیسے پہنچی میں آرہا ہوں

مرے جنازے کو جا کےپیڑوں کے پاس رکھناوہ چل کے آئیں گے اتنا کہنا بلا رہا ہوں

گھڑی محبت کی اک نشانی جو بند پڑی ہےبیکار اس کی میں سوئیوں کو گھوما رہا ہوں

تمہیں پرندوں سے بات کرنے کا ڈھب سکھا لوںتو خود پرندوں سے پوچھ لینا میں کیا رہا ہوں

میں سونے ہیڑوں کا دکھ سمجھتا ہوں یار دانشسو کچھ دنوں میں خود پرندے بنا رہا ہوں

— تنویر دانش

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں