8 اشعار

دیکھتے ہو جو مسکراتے ہیں

Dekhte ho jo muskurate hain

دیکھتے ہو جو مسکراتے ہیںخاک ہیں تتلیوں کو بھاتے ہیں

یاد کرتے ہیں بیتے لمحوں کواور کچھ بھیروی میں گاتے ہیں

آج لیتےہیں ایک کچا گھڑادونوں دریا کے پار جاتے ہیں

آو چلتے ہیں کھوجنے ان کووہ سہارے جو ڈوب جاتے ہیں

آپ اس دل میں رہ نا پائیں گےاس میں آسیب آتے جاتے ہیں

شہر کیوں دشمنی پہ اترا ہےآپ کیا آئینے بناتے ہیں

میں نے خاموش رہ کے دیکھا ہےلوگ دو دن میں بھول جاتے ہیں

یار تم زندگی ہی کو دیکھوطفل ہیں بلبلے بناتے ہیں

— تنویر دانش