13 اشعار

غزہ اِس عہد کا کرب و بلا ہے

Ghazah is ahd ka karb-o-bala hai

غزہ اِس عہد کا کرب و بلا ہےغزہ اس عہد کا اک آئنہ ہے

بہت سوں کا بھیانک پن کھلا ہےبہت سوں کا نقابِ زہد اترا

منافق تھے صفوں میں جو ہماریسبھی کے بت زمیں پر آگرے ہیں

غزہ اس عہد کا کرب و بلا ہےنہتے لوگ ہیں پھر بھی ڈٹے ہیں

دھماکوں میں مدد کی ہیں صدائیںیہ ہم کردار میں کوفی کھڑے ہیں

ہم اُن کا حق بخوبی جانتے ہیںمگر اِس بار حر کوئی نہیں ہے

گلی کوچے سبھی مقتل بنے ہیںوہاں بارود سے لاشے اٹے ہیں

کہ چھینی جا چکی ہیں سب ردائیںاجاڑی جا چکی ہیں کتنی مائیں

کہ سارے گھر جلائے جا چکے ہیںسبھی آنگن کہ ویراں ہو چکے ہیں

بپا ہونے کو ہے شامِ غریباںکئی شہپر جو ریگِ رن ہوئے ہیں

کہاں پر کون ہے اور کس قفس میںہمیں تو سخت حیرت ہو رہی ہے

ہر اک آواز سینے میں دبی ہےیہ منظر ظلم کا کچھ کم نہیں ہے

ہماری آنکھ ہے اور نم نہیں ہے

— تنویر دانش