4 اشعار

ہماری خود سے ملاقات ہونا باقی ہے

Hamari khud se mulaqat hona baqi hai

ہماری خود سے ملاقات ہونا باقی ہےکہ اس عمل کی مکافات ہونا باقی ہے

حصارِ زلف سے نکلی ہے کتنی مشکل سےابھی غزل پہ بہت بات ہونا باقی ہے

اسے کہو کہ ابھی چال اک بچا کے رکھےمیں کٹ گرا ہوں مگر مات ہونا باقی ہے

سرِ ورق ہہ ابھی حرف جاگتے ہیں سبھیہوئی ہے رات مگر رات ہونا باقی ہے

— تنویر دانش