2 اشعار

مرے صحن میں پڑا وحشتوں کا پالنا ہے

Mere sahn mein pada wahshaton ka paalna hai

مرے صحن میں پڑا وحشتوں کا پالنا ہےتری فضا میں مجھے قہقہہ اچھالنا ہے

میں لکھ رہا ہوں ابھی داستان اک غم کیپر اس کے ساتھ مجھے دل بھی تو سنبھالنا ہے

— تنویر دانش