27 اشعار

(غیر) حاضر

(Ghair) Hazir

(غیر) حاضر

«(غیر) حاضر» عمیر نجمی کا کلام ہے، جسے کریسنٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «نکال لایا ہوں پنجرے سے ایک پرندہ (عمیر نجمی)» میں 1 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

حاضری لگنے والی ہےخاموش ہوں اور توجہ کریں

ایک؟“جی سر! “

اُدھر دائیں دیوار کی کھڑکیوں سے پرے پیڑ ہیںکچھ ہرے پیڑ ہیں

جن کے پتے لگاتار جھڑتے چلے جا رہے ہیںپرندے بھی ہیں پیڑوں پر

ان کے پر..“پانچ؟ “

“حاضر جناب! “ان کے پر..

سرمئی رنگ سے ملتا جلتا کوئی رنگ ہے“سات؟ “

جی!گھونسلہ ایک ہے..

یعنی سارے پرندے اِدھر کے نہیں، کچھ چلے جائیں گےاور یہ تیسرے پیڑ پر کیا لکھا ہے؟

نیا ہےنکل کر پڑھوں گا میں

دس؟جی میں ہوں

بالکل ایسے کسی نے کہا تھا مجھے دس برس قبلتیرہ مئی، دو ہزار آٹھ، منگل تھا اور شام چھ یا سوا چھ

مرے گھر کی چھتمیں نے دیوار کی اِس طرف سے کہا تھا:

کوئی ہے؟تبھی بالکل ایسے کسی نے کہا تھا کہ جی ہاں میں ہوں

پندرہیس سر! پریزنٹ

جی ہاں.. پریزنٹ.. حالاب وہ آواز جانے کہاں جا چکی

دس برس ہوگئے، پوچھتے پوچھتے، کوئی ہے، کوئی ہےاور آگے سے بس خامشی

جی میں ہوں والی آواز تو جاچکی ہےاٹھارہ؟

کہاں ہو گی اب؟رول نمبر اٹھارہ؟

ارے یہ تو میں..سوری سر

تم کہاں کھوئے رہتے ہو، پاگل ہو کیاسر وہ آواز تو جا چکی

کیا کہا؟جا چکی

چپ!نہیں سر!.. سنیں

جب سے وہ جاچکیمیں جہاں بھی ہوں، ہو کر بھی ہوتا نہیں

جیسے اب بھی یہاں تو نہیں ہوں، بظاہر ہوں سرآپ سمجھے

نہیں!اور کچھ بھی بتانے سے قاصر ہوں سر

آپ لکھ دیجیےغیر حاضر ہوں سر

— عمیر نجمی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں