7 اشعار

منظر دھندھلے روشنیاں مدھم ہوتی ہیں

Manzar dhundhle roshniyan madham hoti hain

منظر دھندھلے روشنیاں مدھم ہوتی ہیں

«منظر دھندھلے روشنیاں مدھم ہوتی ہیں» عمیر نجمی کا کلام ہے، جسے نایاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «نکال لایا ہوں پنجرے سے ایک پرندہ (عمیر نجمی)» میں 1 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 48 سیکنڈ ہے۔

منظر دھندھلے روشنیاں مدھم ہوتی ہیںآنکھیں ویسے ٹھیک ہیں شاید نم ہوتی ہیں

دریا تھوڑی ہوں جو اپنا رستہ بدلوںصحرا کی بنیادیں مستحکم ہوتی ہیں

رونا ہو تو تنہا ہونا شرط نہیں ہےیہ برساتیں اکثر بے موسم ہوتی ہیں

جو بھی فیصلہ کرنا ہو بس جلدی کرنامجھ جیسے لوگوں کی عمریں کم ہوتی ہیں

باپ کا کندھا توڑ نہ دے یہ چھوٹا تابوتیہ چھوٹی لاشیں بھاری بھرکم ہوتی ہیں

خاموشی ترتیب میں رکھتی ہے آوازیںورنہ یہ آوارہ بے‌ ہنگم ہوتی ہیں

عشق میں کیا تیاری کیا منصوبہ بندییہ ان چیزوں میں ہے جو یکدم ہوتی ہیں

— عمیر نجمی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں