7 اشعار

بچھڑ گئے تو یہ دل عمر بھر لگے گا نہیں

Bichhad gaye to yeh dil umar bhar lagega nahin

بچھڑ گئے تو یہ دل عمر بھر لگے گا نہیں

«بچھڑ گئے تو یہ دل عمر بھر لگے گا نہیں» عمیر نجمی کا کلام ہے، جسے حسین بلوچ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «نکال لایا ہوں پنجرے سے ایک پرندہ (عمیر نجمی)» میں 1 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 51 سیکنڈ ہے۔

بچھڑ گئے تو یہ دل عمر بھر لگے گا نہیںلگے گا لگنے لگا ہے مگر لگے گا نہیں

نہیں لگے گا اسے دیکھ کر مگر خوش ہےمیں خوش نہیں ہوں مگر دیکھ کر لگے گا نہیں

ہمارے دل کو ابھی مستقل پتا نہ بناہمیں پتا ہے ترا دل ادھر لگے گا نہیں

جنوں کا حجم زیادہ تمہارا ظرف ہے کمذرا سا گملا ہے اس میں شجر لگے گا نہیں

اک ایسا زخم نما دل قریب سے گزرادل اس کو دیکھ کے چیخا ٹھہر لگے گا نہیں

جنوں سے کند کیا ہے سو اس کے حسن کا کیلمرے سوا کسی دیوار پر لگے گا نہیں

بہت توجہ تعلق بگاڑ دیتی ہےزیادہ ڈرنے لگیں گے تو ڈر لگے گا نہیں

— عمیر نجمی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں