بچھڑ گئے تو یہ دل عمر بھر لگے گا نہیں
کلام: عمیر نجمی
بچھڑ گئے تو یہ دل عمر بھر لگے گا نہیںلگے گا لگنے لگا ہے مگر لگے گا نہیں
نہیں لگے گا اسے دیکھ کر مگر خوش ہےمیں خوش نہیں ہوں مگر دیکھ کر لگے گا نہیں
نکال لایا ہوں پنجرے سے ایک پرندہ (عمیر نجمی)
مہمان شاعر: عمیر نجمی
بچھڑ گئے تو یہ دل عمر بھر لگے گا نہیںلگے گا لگنے لگا ہے مگر لگے گا نہیں
نہیں لگے گا اسے دیکھ کر مگر خوش ہےمیں خوش نہیں ہوں مگر دیکھ کر لگے گا نہیں
مو قلم توڑ چکا آخری تصویر کے بعدمجھ سے کچھ بنتا نہیں تھا تری تصویر کے بعد
مشترک دوست بھی چھوڑے ہیں تجھے چھوڑنے پرمجھ کو دیوار ہٹانا پڑی تصویر کے بعد