7 اشعار

چاہتا ہوں کہ نظر نور سے مانوس نہ ہو

Chahta hoon ke nazar noor se maanoos na ho

چاہتا ہوں کہ نظر نور سے مانوس نہ ہو

«چاہتا ہوں کہ نظر نور سے مانوس نہ ہو» عمیر نجمی کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «نکال لایا ہوں پنجرے سے ایک پرندہ (عمیر نجمی)» میں 1 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 53 سیکنڈ ہے۔

چاہتا ہوں کہ نظر نور سے مانوس نہ ہوروشنی ہو مگر اتنی ہو کہ محسوس نہ ہو

کیسے کھل پائے یہ رعشہ ہے کہ بھونچال اگرکمرے کی چھت سے لٹکتا ہوا فانوس نہ ہو

زندگی لمبی تو ہو سکتی ہے بے انت نہیںخود کشی کی بھی سہولت ہے تو مایوس نہ ہو

تو دعا کر کہ میں روتا رہوں صحرا نہ بنوںخاک اور نم کا تناسب کبھی معکوس نہ ہو

جسم کا امن سبوٹاژ کئے رکھتی ہےروح دراصل سماوات کی جاسوس نہ ہو

کوئی آسیب بھی چھیڑے نہ مری تنہائیایسا گھر دیکھ جو خالی تو ہو منحوس نہ ہو

اب یہ زردی بھی بھگتنا تو پڑے گی کچھ دنمیں نہ کہتا تھا ہرے رنگ میں ملبوس نہ ہو

— عمیر نجمی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں