ہر اک ہزار میں بس پانچ سات ہیں ہم لوگ
کلام: عمیر نجمی
ہر اک ہزار میں بس پانچ سات ہیں ہم لوگنصاب عشق پہ واجب زکوٰۃ ہیں ہم لوگ
دباؤ میں بھی جماعت کبھی نہیں بدلیشروع دن سے محبت کے ساتھ ہیں ہم لوگ
نکال لایا ہوں پنجرے سے ایک پرندہ (عمیر نجمی)
مہمان شاعر: عمیر نجمی
ہر اک ہزار میں بس پانچ سات ہیں ہم لوگنصاب عشق پہ واجب زکوٰۃ ہیں ہم لوگ
دباؤ میں بھی جماعت کبھی نہیں بدلیشروع دن سے محبت کے ساتھ ہیں ہم لوگ
چاہتا ہوں کہ نظر نور سے مانوس نہ ہوروشنی ہو مگر اتنی ہو کہ محسوس نہ ہو
کیسے کھل پائے یہ رعشہ ہے کہ بھونچال اگرکمرے کی چھت سے لٹکتا ہوا فانوس نہ ہو