7 اشعار

کھیل دونوں کا چلے تین کا دانہ نہ پڑے

Khel donon ka chale teen ka dana na pade

کھیل دونوں کا چلے تین کا دانہ نہ پڑے

«کھیل دونوں کا چلے تین کا دانہ نہ پڑے» عمیر نجمی کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «نکال لایا ہوں پنجرے سے ایک پرندہ (عمیر نجمی)» میں 1 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 48 سیکنڈ ہے۔

کھیل دونوں کا چلے تین کا دانہ نہ پڑےسیڑھیاں آتی رہیں سانپ کا خانہ نہ پڑے

دیکھ معمار پرندے بھی رہیں گھر بھی بنےنقشہ ایسا ہو کوئی پیڑ گرانا نہ پڑے

میرے ہونٹوں پہ کسی لمس کی خواہش ہے شدیدایسا کچھ کر مجھے سگریٹ کو جلانا نہ پڑے

اس تعلق سے نکلنے کا کوئی راستہ دےاس پہاڑی پہ بھی بارود لگانا نہ پڑے

نم کی ترسیل سے آنکھوں کی حرارت کم ہوسرد خانوں میں کوئی خواب پرانا نہ پڑے

ربط کی خیر ہے بس تیری انا بچ جائےاس طرح جا کہ تجھے لوٹ کے آنا نہ پڑے

ہجر ایسا ہو کہ چہرے پہ نظر آ جائےزخم ایسا ہو کہ دکھ جائے دکھانا نہ پڑے

— عمیر نجمی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں