7 اشعار

دائیں بازو میں گڑا تیر نہیں کھینچ سکا

Daaein baazu mein gada teer nahin kheench saka

دائیں بازو میں گڑا تیر نہیں کھینچ سکا

«دائیں بازو میں گڑا تیر نہیں کھینچ سکا» عمیر نجمی کا کلام ہے، جسے فائیٹر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «نکال لایا ہوں پنجرے سے ایک پرندہ (عمیر نجمی)» میں 1 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ ہے۔

دائیں بازو میں گڑا تیر نہیں کھینچ سکااس لئے خول سے شمشیر نہیں کھینچ سکا

شور اتنا تھا کہ آواز بھی ڈبے میں رہیبھیڑ اتنی تھی کہ زنجیر نہیں کھینچ سکا

ہر نظر سے نظر انداز شدہ منظر ہوںوہ مداری ہوں جو رہ گیر نہیں کھینچ سکا

میں نے محنت سے ہتھیلی پہ لکیریں کھینچیںوہ جنہیں کاتب تقدیر نہیں کھینچ سکا

میں نے تصویر کشی کر کے جواں کی اولادان کے بچپن کی تصاویر نہیں کھینچ سکا

مجھ پہ اک ہجر مسلط ہے ہمیشہ کے لئےایسا جن ہے کہ کوئی پیر نہیں کھینچ سکا

تم پہ کیا خاک اثر ہوگا مرے شعروں کاتم کو تو میر تقی میرؔ نہیں کھینچ سکا

— عمیر نجمی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں