دائیں بازو میں گڑا تیر نہیں کھینچ سکا
کلام: عمیر نجمی
دائیں بازو میں گڑا تیر نہیں کھینچ سکااس لئے خول سے شمشیر نہیں کھینچ سکا
شور اتنا تھا کہ آواز بھی ڈبے میں رہیبھیڑ اتنی تھی کہ زنجیر نہیں کھینچ سکا
نکال لایا ہوں پنجرے سے ایک پرندہ (عمیر نجمی)
مہمان شاعر: عمیر نجمی
دائیں بازو میں گڑا تیر نہیں کھینچ سکااس لئے خول سے شمشیر نہیں کھینچ سکا
شور اتنا تھا کہ آواز بھی ڈبے میں رہیبھیڑ اتنی تھی کہ زنجیر نہیں کھینچ سکا
کوئی حسین بدن جن کی دسترس میں نہیںیہی کہیں گے کہ کچھ فائدہ ہوس میں نہیں
قریبی لوگوں کی فہرست میں تو ہیں اُس کیمگر یہ دُکھ ہے کہ ہم پہلے آٹھ، دس میں نہیں