7 اشعار

اس کی طرف بس اس لیے تکتا نہیں تھا میں

Uss ki taraf bas iss liye takta nahin tha main

اس کی طرف بس اس لیے تکتا نہیں تھا میں

«اس کی طرف بس اس لیے تکتا نہیں تھا میں» عمیر نجمی کا کلام ہے، جسے امل خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «نکال لایا ہوں پنجرے سے ایک پرندہ (عمیر نجمی)» میں 1 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 53 سیکنڈ ہے۔

اس کی طرف بس اس لیے تکتا نہیں تھا میںسب دیکھتے تھے آنکھ جھپکتا نہیں تھا میں

ایسی دبیز تہ تھی بدن پر ملال کیجلنے کے باوجود چمکتا نہیں تھا میں

اندر کی ٹوٹ پھوٹ میں ٹوٹے ہیں لفظ بھیدوران گفتگو یوں اٹکتا نہیں تھا میں

کچھ کچھ شعور ہجر مجھے کمسنی سے تھاسو ٹہنیوں سے پھول اچکتا نہیں تھا میں

اک عطر ساز لمس نے تکمیل کی مریورنہ کھلا ہوا بھی مہکتا نہیں تھا میں

گریہ شروع سے تھا پسندیدہ مشغلہگھنٹوں بھی کرتا رہتا تو تھکتا نہیں تھا میں

اچھا ہوا خود اس کی نظر مجھ پہ پڑ گئیاس کو وہاں پکار تو سکتا نہیں تھا میں

— عمیر نجمی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں