7 اشعار

جاؤ! مجھے ڈراؤ نہ کارِ ملال سے

Jao! Mujhe daraao na kaar-e-malaal se

جاؤ! مجھے ڈراؤ نہ کارِ ملال سے

«جاؤ! مجھے ڈراؤ نہ کارِ ملال سے» عمیر نجمی کا کلام ہے، جسے راجا اکرام قمر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «نکال لایا ہوں پنجرے سے ایک پرندہ (عمیر نجمی)» میں 1 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 52 سیکنڈ ہے۔

جاؤ! مجھے ڈراؤ نہ کارِ ملال سےیہ کام کر رہا ہوں میں بتیس سال سے

پہلے تو ناخنوں سے تراشے کئی پہاڑپھر اس کے بعد زخم کریدے کدال سے

کُھلتی تھی اک مکان کی کھڑکی، جنوبی سمتسورج طلوع ہوتا تھا میرا شمال سے

ایسا نہیں کہ ہجر ہوا مجھ میں صرف جذبظاہر بھی ہو رہا ہے مرے خدوخال سے

یہ زخم اُس کا آخری تحفہ ہے، کچھ کرو!کچھ بھی کرو! بچاؤ اِسے اندمال سے

اک ہجرِ ممکنہ مرے کافی قریب ہےدیمک ذرا سی دور ہے لکڑی کے ٹال سے

قبل از سفر، درونِ سفر، بعد از سفرکہتا تھا کوئی کان میں :" نجمی! خیال سے!"

— عمیر نجمی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں