جاؤ! مجھے ڈراؤ نہ کارِ ملال سے
کلام: عمیر نجمی
جاؤ! مجھے ڈراؤ نہ کارِ ملال سےیہ کام کر رہا ہوں میں بتیس سال سے
پہلے تو ناخنوں سے تراشے کئی پہاڑپھر اس کے بعد زخم کریدے کدال سے
نکال لایا ہوں پنجرے سے ایک پرندہ (عمیر نجمی)
مہمان شاعر: عمیر نجمی
جاؤ! مجھے ڈراؤ نہ کارِ ملال سےیہ کام کر رہا ہوں میں بتیس سال سے
پہلے تو ناخنوں سے تراشے کئی پہاڑپھر اس کے بعد زخم کریدے کدال سے
جھ تک رسائی سہل نہیں ہے ادھر نہ آتو خود کہاں کھڑا ہے ٹھہر آ رہا ہوں میں
ہر روز کیوں پگھل کے ٹپکتا ہوں آنکھ سےکیسی تپش کے زیر اثر آ رہا ہوں میں