منظر دھندھلے روشنیاں مدھم ہوتی ہیں
کلام: عمیر نجمی
منظر دھندھلے روشنیاں مدھم ہوتی ہیںآنکھیں ویسے ٹھیک ہیں شاید نم ہوتی ہیں
دریا تھوڑی ہوں جو اپنا رستہ بدلوںصحرا کی بنیادیں مستحکم ہوتی ہیں
نکال لایا ہوں پنجرے سے ایک پرندہ (عمیر نجمی)
مہمان شاعر: عمیر نجمی
منظر دھندھلے روشنیاں مدھم ہوتی ہیںآنکھیں ویسے ٹھیک ہیں شاید نم ہوتی ہیں
دریا تھوڑی ہوں جو اپنا رستہ بدلوںصحرا کی بنیادیں مستحکم ہوتی ہیں
زیست کم لگتی تھی دشوار زیادہ نکلیمیرے انداز سے ہر بار زیادہ نکلی
کوئی روزن نہ جھروکا نہ کوئی دروازہمیری تعمیر میں دیوار زیادہ نکلی