5 اشعار

زیست کم لگتی تھی دشوار زیادہ نکلی

Zeesst kam lagti thi dushwaar zyada nikli

زیست کم لگتی تھی دشوار زیادہ نکلی

«زیست کم لگتی تھی دشوار زیادہ نکلی» عمیر نجمی کا کلام ہے، جسے نایاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «نکال لایا ہوں پنجرے سے ایک پرندہ (عمیر نجمی)» میں 1 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 37 سیکنڈ ہے۔

زیست کم لگتی تھی دشوار زیادہ نکلیمیرے انداز سے ہر بار زیادہ نکلی

کوئی روزن نہ جھروکا نہ کوئی دروازہمیری تعمیر میں دیوار زیادہ نکلی

یہ مری موت کے اسباب میں لکھا ہو گاخون میں عشق کی مقدار زیادہ نکلی

کتنی جلدی دیا گھر والوں کو پھل اور سایہمجھ سے تو پیڑ کی رفتار زیادہ نکلی

تو سمجھتا تھا مجھے تو نے ہی برتا ہے عمیرؔزندگی تجھ سے بھی فن کار زیادہ نکلی

— عمیر نجمی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں