اس کی طرف بس اس لیے تکتا نہیں تھا میں
کلام: عمیر نجمی
اس کی طرف بس اس لیے تکتا نہیں تھا میںسب دیکھتے تھے آنکھ جھپکتا نہیں تھا میں
ایسی دبیز تہ تھی بدن پر ملال کیجلنے کے باوجود چمکتا نہیں تھا میں
نکال لایا ہوں پنجرے سے ایک پرندہ (عمیر نجمی)
مہمان شاعر: عمیر نجمی
اس کی طرف بس اس لیے تکتا نہیں تھا میںسب دیکھتے تھے آنکھ جھپکتا نہیں تھا میں
ایسی دبیز تہ تھی بدن پر ملال کیجلنے کے باوجود چمکتا نہیں تھا میں
اک دن زباں سکوت کی پوری بناؤں گامیں گفتگو کو غیر ضروری بناؤں گا
تصویر میں بناؤں گا دونوں کے ہاتھ اوردونوں میں ایک ہاتھ کی دوری بناؤں گا