7 اشعار

آسماں پر ابر پارے کا سفر میرے لیے

Aasmaan par abr-e-paare ka safar mere liye

آسماں پر ابر پارے کا سفر میرے لیے

«آسماں پر ابر پارے کا سفر میرے لیے» وزیر آغا کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اس کی آواز میں تھے سارے خدوخال اس کے (ڈاکٹروزیر آغا)» میں 20 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 59 سیکنڈ ہے۔

آسماں پر ابر پارے کا سفر میرے لیےخاک پر مہکا ہوا چھوٹا سا گھر میرے لیے

لفظ کی چھاگل جو چہکے خاکداں آباد ہووجد میں آنے لگیں سارے شجر میرے لیے

دور تک اڑتے ہوئے جگنو تری آواز کےدور تک ریگ رواں پر اک نگر میرے لیے

آشنا نظروں سے دیکھیں رات بھر تارے تجھےگھورتی آنکھوں کی یہ بستی مگر میرے لیے

لے گئی ہے ساری خوشبو چھین کر ٹھنڈی ہواپتیاں بکھری پڑی ہیں خاک پر میرے لیے

بند اس نے کر لیے تھے گھر کے دروازے اگرپھر کھلا کیوں رہ گیا تھا ایک در میرے لیے

خاک پر بکھرے ہوئے قدموں تلے روندے ہوئےتحفۃً لائی ہوا میرے ہی پر میرے لیے

— وزیر آغا

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں