آسماں پر ابر پارے کا سفر میرے لیے
کلام: وزیر آغا
آسماں پر ابر پارے کا سفر میرے لیےخاک پر مہکا ہوا چھوٹا سا گھر میرے لیے
لفظ کی چھاگل جو چہکے خاکداں آباد ہووجد میں آنے لگیں سارے شجر میرے لیے
اس کی آواز میں تھے سارے خدوخال اس کے (ڈاکٹروزیر آغا)
مہمان شاعر: وزیر آغا
آسماں پر ابر پارے کا سفر میرے لیےخاک پر مہکا ہوا چھوٹا سا گھر میرے لیے
لفظ کی چھاگل جو چہکے خاکداں آباد ہووجد میں آنے لگیں سارے شجر میرے لیے
تمہیں خبر بھی نہ ملی اور ہم شکستہ حالتمہارے قدموں کی آندھی میں ہو گئے پامال
ترے بدن کی مہک نے سلا دیا تھا مگرہوا کا اندھا مسافر چلا انوکھی چال