9 اشعار

اس گریۂ پیہم کی اذیت سے بچا دے

Is girya-e-paiham ki aziyat se bacha de

اس گریۂ پیہم کی اذیت سے بچا دے

«اس گریۂ پیہم کی اذیت سے بچا دے» وزیر آغا کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اس کی آواز میں تھے سارے خدوخال اس کے (ڈاکٹروزیر آغا)» میں 20 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 12 سیکنڈ ہے۔

اس گریۂ پیہم کی اذیت سے بچا دےآواز جرس اب کے برس مجھ کو ہنسا دے

یا ابر کرم بن کے برس خشک زمیں پریا پیاس کے صحرا میں مجھے جینا سکھا دے

میں بھی تری خوشبو ہوں مری سمت بھی تو دیکھمہلت تجھے گر سلسلۂ موج صبا دے

سورج نے مجھے برف کیا ہے تو تجھے کیاکیا تجھ کو اگر برف مجھے آگ لگا دے

ایسا بھی نہیں ہے کہ فقط خاک نشیں ہوںآ جائے ہوا آ کے مری خاک اڑا دے

خوشبو کی طرح در بدری خو ہو مری گرہے شک تو مجھے میری نگاہوں میں گرا دے

کانٹے کی جراحت سے بھی مر جاتے ہیں کچھ لوگرکھ حوصلہ اتنی بھی نہ اب خود کو سزا دے

یا رب تری رحمت کا طلب گار ہے یہ بھیتھوڑی سی مرے شہر کو بھی آب و ہوا دے

کیا تیرا بگڑتا ہے اگر چاندنی شب تواک بار مجھے پھر میری آواز سنا دے

— وزیر آغا

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں