7 اشعار

کس کس سے نہ وہ لپٹ رہا تھا

Kis kis se na woh lipat raha tha

کس کس سے نہ وہ لپٹ رہا تھا

«کس کس سے نہ وہ لپٹ رہا تھا» وزیر آغا کا کلام ہے، جسے انتظار حسین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اس کی آواز میں تھے سارے خدوخال اس کے (ڈاکٹروزیر آغا)» میں 20 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 46 سیکنڈ ہے۔

کس کس سے نہ وہ لپٹ رہا تھاپاگل تھا یوں ہی چمٹ رہا تھا

میری رات گزر رہی تھی ایسےمیں جیسے ورق الٹ رہا تھا

ساگر میں نہیں تھی موج اک بھیساحل تھا کہ پھر بھی کٹ رہا تھا

میں بھی تو جھپٹ رہا تھا خود پرجب میرا اثاثہ بٹ رہا تھا

دیکھا تو نظر تھی اس کی جل تھلمشکیزۂ ابر پھٹ رہا تھا

قسمت ہی میں روشنی نہیں تھیبادل تو کبھی کا چھٹ رہا تھا

نشہ تھا چڑھاؤ پر سحر دمپیمانۂ عمر گھٹ رہا تھا

— وزیر آغا

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں