5 اشعار

تمہیں خبر بھی نہ ملی اور ہم شکستہ حال

Tumhein khabar bhi na mili aur hum shikasta haal

تمہیں خبر بھی نہ ملی اور ہم شکستہ حال

«تمہیں خبر بھی نہ ملی اور ہم شکستہ حال» وزیر آغا کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اس کی آواز میں تھے سارے خدوخال اس کے (ڈاکٹروزیر آغا)» میں 20 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 34 سیکنڈ ہے۔

تمہیں خبر بھی نہ ملی اور ہم شکستہ حالتمہارے قدموں کی آندھی میں ہو گئے پامال

ترے بدن کی مہک نے سلا دیا تھا مگرہوا کا اندھا مسافر چلا انوکھی چال

وہ ایک نور کا سیلاب تھا کہ اسی کا سفروہ ایک نقطۂ موہوم تھا کہ یہ بد حال

عجیب رنگ میں وارد ہوئی خزاں اب کےدمکتے ہونٹ سلگتی نظر دہکتے گال

ترے کرم کی تو ہر سو مہکتی برکھا تھیہمیں تھے جن کو ہوا بھیگا پیرہن بھی وبال

— وزیر آغا

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں