5 اشعار

منظر تھا راکھ اور طبیعت اداس تھی

Manzar tha raakh aur tabiyat udaas thi

منظر تھا راکھ اور طبیعت اداس تھی

«منظر تھا راکھ اور طبیعت اداس تھی» وزیر آغا کا کلام ہے، جسے فخر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اس کی آواز میں تھے سارے خدوخال اس کے (ڈاکٹروزیر آغا)» میں 20 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

منظر تھا راکھ اور طبیعت اداس تھیہر چند تیری یاد مرے آس پاس تھی

میلوں تھی اک جھلستی ہوئی دوپہر کی قاشسینے میں بند سینکڑوں صدیوں کی پیاس تھی

اٹھے نہا کے شعلوں میں اپنے تو یہ کھلاسارے جہاں میں پھیلی ہوئی تیری باس تھی

کیسے کہوں کہ میں نے کہاں کا سفر کیاآکاش بے چراغ زمیں بے لباس تھی

اب دھول میں اٹی ہوئی راہوں پہ ہے سفروہ دن گئے کہ پاؤں تلے نرم گھاس تھی

— وزیر آغا

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں