کس کس سے نہ وہ لپٹ رہا تھا
کلام: وزیر آغا
کس کس سے نہ وہ لپٹ رہا تھاپاگل تھا یوں ہی چمٹ رہا تھا
میری رات گزر رہی تھی ایسےمیں جیسے ورق الٹ رہا تھا
اس کی آواز میں تھے سارے خدوخال اس کے (ڈاکٹروزیر آغا)
مہمان شاعر: وزیر آغا
کس کس سے نہ وہ لپٹ رہا تھاپاگل تھا یوں ہی چمٹ رہا تھا
میری رات گزر رہی تھی ایسےمیں جیسے ورق الٹ رہا تھا