منظر تھا راکھ اور طبیعت اداس تھی
کلام: وزیر آغا
منظر تھا راکھ اور طبیعت اداس تھیہر چند تیری یاد مرے آس پاس تھی
میلوں تھی اک جھلستی ہوئی دوپہر کی قاشسینے میں بند سینکڑوں صدیوں کی پیاس تھی
اس کی آواز میں تھے سارے خدوخال اس کے (ڈاکٹروزیر آغا)
مہمان شاعر: وزیر آغا
منظر تھا راکھ اور طبیعت اداس تھیہر چند تیری یاد مرے آس پاس تھی
میلوں تھی اک جھلستی ہوئی دوپہر کی قاشسینے میں بند سینکڑوں صدیوں کی پیاس تھی