5 اشعار

آنکھوں سے چند خواب گزرنے کے بعد بھی

Aankhon se chand khwab guzarne ke baad bhi

آنکھوں سے چند خواب گزرنے کے بعد بھی

«آنکھوں سے چند خواب گزرنے کے بعد بھی» زین شکیل کا کلام ہے، جسے شاعر نے خود سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «خاک ہوتی ہے محبت میں اڑانے کے لیے (زین شکیل صاحب کے ساتھ)» میں 6 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 44 سیکنڈ ہے۔

آنکھوں سے چند خواب گزرنے کے بعد بھیدریا چڑھا ہوا ہے اترنے کے بعد بھی

ثابت پڑے ہوئے بھی شکستہ ہی ہم لگےتم پھول ہی لگے ہو بکھرنے کے بعد بھی

دونوں کلائیوں میں سجا لی ہیں چوڑیاںبیٹھی ہے وہ اداس سنورنے کے بعد بھی

ان راستوں سے آج بھی خوشبو نہیں گئیایسا ٹھہر گیا وہ گزرنے کے بعد بھی

اس نے مجھے تسلیاں دیتے ہوئے کہاوہ مجھ سے ملنے آئے گا مرنے کے بعد بھی

— زین شکیل

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں