7 اشعار

دونوں کے درمیان مُقدّر تو آئے گا

Donon ke darmiyan muqaddar to aayega

دونوں کے درمیان مُقدّر تو آئے گا

«دونوں کے درمیان مُقدّر تو آئے گا» زین شکیل کا کلام ہے، جسے شاعر نے خود سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «خاک ہوتی ہے محبت میں اڑانے کے لیے (زین شکیل صاحب کے ساتھ)» میں 6 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 51 سیکنڈ ہے۔

دونوں کے درمیان مُقدّر تو آئے گا !الزامِ بے وفائی کسی پر تو آئے گا !

جب تُم کُھلی کتاب ہو، پڑھتے رہیں گے لوگ !بیری ہو گھر کے صحن میں، پَتھر تو آئے گا !

رویا ہوں اُن کی یاد میں، خود سے لِپٹ کے میں !دِل کو مرے قرار، گھڑی بھر تو آئے گا !

لفظوں کو جوڑ توڑ کے اتنا بڑھا لیا !میرا کلام غم کے برابر تو آئے گا !

آنکھوں سے دور رہنے کی تاکید کی تو تھی !اِن میں اُتر گئے ہو ! سمندر تو آئے گا !

آوارگی میں گُم ہے ابھی دل تو کیا ہوا !ٹوٹے گا کھا کے ٹھوکریں، پھر گھر تو آئے گا !

میرے ہزار کہنے پہ آئے نہ آئے زین !لیکن وہ میری موت کا سُن کر تو آئے گا !

— زین شکیل

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں