22 اشعار

بھلا فقیر کو دنیا کی کیا ضرورت ہے

Bhala faqeer ko duniya ki kya zarurat hai

بھلا فقیر کو دنیا کی کیا ضرورت ہے

«بھلا فقیر کو دنیا کی کیا ضرورت ہے» زین شکیل کا کلام ہے، جسے شاعر نے خود سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «خاک ہوتی ہے محبت میں اڑانے کے لیے (زین شکیل صاحب کے ساتھ)» میں 6 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 29 سیکنڈ ہے۔

بھلا فقیر کو دنیا کی کیا ضرورت ہے ؟؟ترا تو صرف ابھی مسئلہ 'ضرورت' ہے !

یہ سرکشی جو ترے سر چڑھی ہے ! مار اِسے !خدا کی تُو نہیں ! تیری، 'خدا' ضرورت ہے !

ضمیر سوئے ہوئے دو گھڑی تو جاگیں گے !سو اپنے شہر کی، اک سانحہ، ضرورت ہے !

ابھی تُو عشق میں کچا ہے میرے یار ! تری !کلام کے لیے گر، 'رابطہ' ضرورت ہے !

کہا یہ اُس نے مرے پاس صرف رنج بچا !میں اپنی موج میں تھا ! کہہ دیا ! ضرورت ہے !

مجھی پہ چیخ پڑا ! جا ! تری ضرورت نئیں !وہ جیسے رویا ! مجھے یہ لگا ! ضرورت ہے !

میں کائنات ہتھیلی پہ لا کے رکھ دیتا !تُو ایک بار مجھے بولتا ! ضرورت ہے !

تُو خود کہے نہ کہے ! میں سمجھ چکا مرے دوست !کہ تیری، قُرب نہیں ! فاصلہ ضرورت ہے !

یہ بات پوچھنے والی ہے ؟ اُس سے کون کہے ؟وہ پوچھتا ہے کہ بھیجوں دعا ؟ ضرورت ہے ؟

سخی سے یہ نہیں بولا کہ لازمی دے دے!اٹھا کے ہاتھ بس اتنا کہا ضرورت ہے !

میں شاید اب کبھی اپنے بھی کام آ نہ سکوں !اور اب تجھے بھی مری، کونسا ضرورت ہے !

تجھے تو یوں بھی بٹھا لیں گے لوگ آنکھوں پر !حسین شخص ! تجھے میری کیا ضرورت ہے !

وہ روز مجھ کو نئے خواب سونپ دیتا ہے !وہ مجھ سے یہ بھی نہیں پوچھتا ! ضرورت ہے ؟

ترے ہی نام ! مرے لفظ، جسم، جان، یہ دل !مجھے بتا ناں ! تری اور کیا ضرورت ہے ؟

تُو جب بھی میٹھے سے لہجے میں بات کرتا ہے !تَو بول دیتا ہے لہجہ ترا ! ضرورت ہے !

تجھے یہ لگتا ہے ؟ اُس کی کوئی ضرورت نئیں ؟جو شخص منہ سے نہیں کہہ رہا ! ضرورت ہے !

تجھے مری نہ سہی ! پھر بھی تھوڑی دیر ٹھہر !مجھے تری ! اے مرے دوستا ! ضرورت ہے !

یہ مجھ پہ چھوڑ دے ! جیسے بھی چاند لے آؤں !اداس شخص ! فقط یہ بتا ! ضرورت ہے ؟

وہ اُس کی آنکھیں تو ویسے بھی جھیل آنکھیں ہیں !بتاؤ ؟ سرمہ کی اُس کو بھلا ضرورت ہے ؟

مری طلب ہیں مرے یار تیرے بہکاوے !قریب آ کے مجھے ورغلا ! ضرورت ہے !

پھر ایسے بین رچائے گا کون میری طرح ؟کسی کے غم کو مری بے بہا ضرورت ہے !

وہ پوچھتی بھی رہی ! زین ! بول ! کیوں ٹھہروں ؟میں اُس سے یہ بھی نہیں کہہ سکا، ضرورت ہے !

— زین شکیل

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں