5 اشعار

درد کی ہی اساس ہوں میں تو

dard ki hi asaas hun main to

درد کی ہی اساس ہوں میں تو

«درد کی ہی اساس ہوں میں تو» زین شکیل کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «خاک ہوتی ہے محبت میں اڑانے کے لیے (زین شکیل صاحب کے ساتھ)» میں 6 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

درد کی ہی اساس ہوں میں توکتنی صدیوں کی پیاس ہوں میں تو

زائچے میں بھی میرے لکھا ہےدرد کا اقتباس ہوں میں تو

آپ خوش فہمیوں میں مت رہناجانے کس کس کو راس ہوں میں تو

صرف آنکھیں ہی لال ہیں نا بس؟تم سے زیادہ اداس ہوں میں تو

تم نے زیادہ سمجھ لیا ہے ناںصرف تھوڑا سا خاص ہوں میں تو

— زین شکیل

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں