6 اشعار

وہ بانٹتا ہے اگر کچھ تو یہ ستم بانٹے

Woh baantta hai agar kuch to yeh sitam baante

وہ بانٹتا ہے اگر کچھ تو یہ ستم بانٹے

«وہ بانٹتا ہے اگر کچھ تو یہ ستم بانٹے» زین شکیل کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «خاک ہوتی ہے محبت میں اڑانے کے لیے (زین شکیل صاحب کے ساتھ)» میں 6 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

وہ بانٹتا ہے اگر کچھ تو یہ ستم بانٹےجنوں میں عقل کو تھوڑا سا کر کے ضم، بانٹے

دَروں کے حبس کو خود میں سمیٹ لیتا ہےیہ ایسا ابر نہیں ہے جو صرف نَم بانٹے

تمہارے ہاتھ اٹھے ہی نہیں زمانوں سے !سخی کو وقت بہت ہو چکا، کرم بانٹے !

اسی لیے تو میسر اُسے میں آؤں نہیں !فراخ دل ہے ! وہ ہر شے کو ایک دم بانٹے !

اسے کہو کہ اسے لوگ خرچ کر دیں گے !جو بانٹنے ہی لگا ہے تو خود کو کم بانٹے !

یہ بانٹ سکتے نہیں ہیں ! سنا رہے ہو جنھیں !تم اِس فقیر سے کہہ لو ! تمہارا غم بانٹے !

— زین شکیل

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں