9 اشعار

دل سے ہی جب اتر گیا ہے وہ

Dil se hi jab utar gaya hai woh

دل سے ہی جب اتر گیا ہے وہ

«دل سے ہی جب اتر گیا ہے وہ» زبیر قلزم کا کلام ہے، جسے شاعر نے خود سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «زبیر قلزم صاحب کے نام ایک شام» میں 11 مئی 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 7 سیکنڈ ہے۔

دل سے ہی جب اتر گیا ہے وہغزض کیا ہے کدھر گیا ہے وہ

ہجر کا غم تو ہے مگر دکھ یہپہلے سے بھی نکھر گیا ہے وہ

ہائے وعدہ وفا کا بھولا نہیںسیدھا سیدھا مکر گیا ہے وہ

سن کے اچھا لگا رقیب مرےتم سے بھی ہاتھ کر گیا ہے وہ

آئینہ جو دکھاتا پھرتا تھادیکھ کر خود بھی ڈر گیا ہے وہ

آپ آئے ہیں جس سے ملنےہجر پر صبر کر گیا ہے وہ

اپنے در کا مجھے بنا کہ فقیراور خود در بدر گیا ہے وہ

مر نہ جائے کہیں وہ وحشت سےہوش میں آج گھر گیا ہے

آپ قلزم سے ملنے آئے ہیںآہ کل رات مر گیا ہے وہ

— زبیر قلزم

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں