9 اشعار

کس کی آخر یہ انتطاری ہے

Kis ki aakhir yeh intizari hai

کس کی آخر یہ انتطاری ہے

«کس کی آخر یہ انتطاری ہے» زبیر قلزم کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «زبیر قلزم صاحب کے نام ایک شام» میں 11 مئی 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 57 سیکنڈ ہے۔

کس کی آخر یہ انتطاری ہےرات اس سوچ میں گزاری ہے

دن کہاں رہ گیا خدا جانےکون سی رات ہم پہ طاری ہے

کیوں ہے دل میرا لینے سے انکارآپ کی تو دکانداری ہے

اک طمانچے سے عقل آ جاتیوقت کا ہاتھ کتنا باری ہے

بن گیا ہے رقیب قاصد بھیاس نے بھی اپنی جان واری ہے

پھر بھلا چین ہم کہاں پائیںتیرے پہلو میں بے قراری ہے

ہیں جبینیں تو اپنی سجدوں میںاور شیطان سے بھی یاری ہے

چوم کر ماتھا بیٹیا رانی کاسارے دن کی تھکن اتاری ہے

ساٹھ سالوں کا پوچھتے ہو حسابکیا بتائیں میاں کہ خواری ہے

— زبیر قلزم

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں