9 اشعار

دو گھڑی میرے ساتھ رقص کرے

Do ghadi mere saath raqs kare

دو گھڑی میرے ساتھ رقص کرے

«دو گھڑی میرے ساتھ رقص کرے» زبیر قلزم کا کلام ہے، جسے سبدہ گل نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «زبیر قلزم صاحب کے نام ایک شام» میں 11 مئی 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 58 سیکنڈ ہے۔

دو گھڑی میرے ساتھ رقص کرےپھر یہ دن جھومے رات رقص کرے

جب حسیں شخص محو رقص ہوایوں لگا کائنات رقص کرے

میں نے یہ بات کر کے دیکھا ہےاس کی ہر ایک بات رقص کرے

وہ کرے وادات آنکھوں سےاور پھر واردت رقص کرے

اس کے گھر ایک دو شجر ہیں میاںجن کا ہر پات پات رقص کرے

وصل ایک لمحہ مل جائےمیری ساری حیات رقص کرے

ہے عجب کھیل یہ محبت بھیجیت پھر جیت مات رقص کرے

موت آئے تو سامنے وہ ہوچاہتا ہوں وفات رقص کرے

عشق ایسا ہو کہ وہاں اس کیاور یہاں میری ذات رقص کرے

— زبیر قلزم

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں