7 اشعار

جناب کب کہیں پتھروں کا نام تھا پتھر

Janab kab kaheen pattharon ka naam tha patthar

جناب کب کہیں پتھروں کا نام تھا پتھر

«جناب کب کہیں پتھروں کا نام تھا پتھر» زبیر قلزم کا کلام ہے، جسے شاعر نے خود سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «زبیر قلزم صاحب کے نام ایک شام» میں 11 مئی 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 58 سیکنڈ ہے۔

جناب کب کہیں پتھروں کا نام تھا پتھریہ میرا ضبط بنا تب کہا گیا پتھر

یہ کھیل سارا عقیدت کا ہے مرے یاروکہیں ہے بندہ خدا تو کہیں خدا پتھر

ہوس نے وصل میں بستر پہ سلوٹیں ڈالیںیہ عشق دور کہیں پر بنا رہا پتھر

ترے بچھڑنے پہ بھی خوب رونا تھا لیکنجو پہلا شخص تھا مجھ کو بنا گیا پتھر

متاع جان تری طرف دوڑنا چاہوںمیں کیا کروں غم دوراں نے کر دیا پتھر

ملا ہے حال بھی پوچھا ہے میرا میں نے کہامیں ٹھیک رب کا کرم اور تو سنا پتھر

یہ پھول لانے کی زحمت جناب کیوں کی ہےوہ دیکھیے مرے گلدان میں سجا پتھر

— زبیر قلزم

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں