9 اشعار

مجھ کو اپنے گمان کا دکھ ہے

Mujh ko apne gumaan ka dukh hai

مجھ کو اپنے گمان کا دکھ ہے

«مجھ کو اپنے گمان کا دکھ ہے» زبیر قلزم کا کلام ہے، جسے ملک افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «زبیر قلزم صاحب کے نام ایک شام» میں 11 مئی 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 2 سیکنڈ ہے۔

مجھ کو اپنے گمان کا دکھ ہےیعنی سارے جہان کا دکھ ہے

بارشوں کی خوشی ہے ایک طرفاپنے کچے مکان کا دکھ ہے

عشق گرد سفر رہا لیکنجو ہوئی اس تھکان کا دکھ ہے

یہ محبت دلوں کا سودا تھاجو دیا اس لگان کا دکھ ہے

عمر ہے پالوں دکھ محبت کااور مجھے خاندان کا دکھ ہے

عشق یہ تم نے کیسے مارا اسےمرنے والے کی شان کا دکھ

تم نہیں بانٹ سکتے مرا دکھیار یہ ٹوٹے مان کا دکھ ہے

تیری خاطر جلایا تھا جو ہاتھٹھیک ہے بس نشان کا دکھ ہے

جس میں نقصان تک نہ ہو قلزمہائے ایسی دکان کا دکھ ہے

— زبیر قلزم

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں