5 اشعار

میری ہر سانس مری خوشیوں کا ساماں ہوتی

Meri har saans meri khushiyon ka samaan hoti

میری ہر سانس مری خوشیوں کا ساماں ہوتی

«میری ہر سانس مری خوشیوں کا ساماں ہوتی» زبیر قلزم کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «زبیر قلزم صاحب کے نام ایک شام» میں 11 مئی 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 38 سیکنڈ ہے۔

میری ہر سانس مری خوشیوں کا ساماں ہوتیتو جو ہوتا تو حیاتی بھی درخشاں ہوتی

ہم نے جانا تو فقط اتنا ہی جانا ہے جنابزندگی بار دگر ہوتی جو آساں ہوتی

اس لیے وصل سے انکار کیا تھا میں نےاس کے پہلو اداسی بھی پریشاں ہوتی

آپ جو شہر منافق میں بسیرا کرتےسب سے سرکار الگ آپ کی پہچاں ہوتی

جانے والوں صدا میں نے نہیں دی قلزؔماور دیتا بھی تو آواز پشیماں ہوتی

— زبیر قلزم

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں