5 اشعار

رُتوں کا زہر چکھوں محبس فضا میں رہوں

Ruton ka zehar chakhun mahbas fiza mein rahun

رُتوں کا زہر چکھوں محبس فضا میں رہوں

«رُتوں کا زہر چکھوں محبس فضا میں رہوں» اعتبارساجد کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ایک ہی شہر میں رہنا مگر ملنا نہیں (اعتبار ساجد)» میں 1 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 52 سیکنڈ ہے۔

رُتوں کا زہر چکھوں محبس فضا میں رہوںمرے جنوں کا تقاضا ہے ابتلا میں رہوں

چمک پڑوں سرد اماں آرزو ہر شبمیں اشک بن کے تری چشم نیم وا میں رہوں

یہ بے وفا مرے ہر جائیوں کا شہر سہیکچھ اور دیر اسی خواب کی فضا میں رہوں

سہوں عذاب سدا موسموں کا شام و سحراسیر وقت رہوں جسم کی قبا میں رہوں

یہ کیا سزا ہے کہ لب تشنہ عمر بھر ساجدؔمیں اپنی ذات کے میدان کربلا میں رہوں

— اعتبارساجد

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں