نہیں معلوم اب کی سال مے خانے پہ کیا گزرا
کلام: انعام اللہ خاں یقین
نہیں معلوم اب کی سال مے خانے پہ کیا گزراہمارے توبہ کر لینے سے پیمانے پہ کیا گزرا
برہمن سر کو اپنے پیٹتا تھا دیر کے آگےخدا جانے تری صورت سے بت خانے پہ کیا گزرا
دے لے ساقی ہم کو مے یہ ابر باراں پھر کہاںانعام اللہ یقین
مہمان شاعر: انعام اللہ خاں یقین
نہیں معلوم اب کی سال مے خانے پہ کیا گزراہمارے توبہ کر لینے سے پیمانے پہ کیا گزرا
برہمن سر کو اپنے پیٹتا تھا دیر کے آگےخدا جانے تری صورت سے بت خانے پہ کیا گزرا