گریباں پھاڑ ڈالے رشک سے ہر گل بدن اپنا
کلام: انعام اللہ خاں یقین
گریباں پھاڑ ڈالے رشک سے ہر گل بدن اپنانکالوں خاک سے جوں لالہ گر خونیں کفن اپنا
لگے گا ہاتھ پتھر اس طرح کی سعیٔ ناحق سےپرائے دلبروں پر سر نہ چیر اے کوہ کن اپنا
دے لے ساقی ہم کو مے یہ ابر باراں پھر کہاںانعام اللہ یقین
مہمان شاعر: انعام اللہ خاں یقین
گریباں پھاڑ ڈالے رشک سے ہر گل بدن اپنانکالوں خاک سے جوں لالہ گر خونیں کفن اپنا
لگے گا ہاتھ پتھر اس طرح کی سعیٔ ناحق سےپرائے دلبروں پر سر نہ چیر اے کوہ کن اپنا
ان پری زاد جوانوں نے کیا پیر مجھےکر دیا ضعف سے جوں سایہ زمیں گیر مجھے
تیری تدبیر سے میں کیونکہ مروں گا اے مرگکی نہ ہو ہجر کے جب زہر نے تاثیر مجھے
اس گل سے کچھ حجاب ہمیں درمیاں نہ تھاجس دن کہ یہ بہار نہ تھی گلستاں نہ تھا
دام و قفس سے چھوٹ کے پہنچے جو باغ تکدیکھا تو اس زمیں میں چمن کا نشاں نہ تھا