سپیکرز
سید جینٹلمین کا پیش کردہ کلام
چمن میں مجھ سے دیوانے کے لے جانے سے کیا حاصل
چمن میں مجھ سے دیوانے کے لے جانے سے کیا حاصل دکھا کر گل جنوں کو شور میں لانے سے کیا حاصل جنہیں بالوں کی پھانسی دی وہ ہرگز جی نہیں سکتے جو زلفوں میں پھنسایا اس کے غم کھانے سے کیا حاصل ہمارے درد کی دارو اگر کچھ ہے تو دارو ہے یہ سب کچھ سن کے ساقی بات پی جانے سے کیا حاصل نگہ تیرے ہی جیسے عکس آئینے کا چینی میں یہ سب باتیں سمجھ کر جان شرمانے سے کیا حاصل نہ وہ دل ہے نہ وہ شور جنوں ہے سیر گل مت کر رفیقوں بن یقیںؔ گلزار میں جانے سے کیا حاصل
حق مجھے باطل آشنا نہ کرے
حق مجھے باطل آشنا نہ کرے میں بتوں سے پھروں خدا نہ کرے دوستی بد بلا ہے اس میں خدا کسی دشمن کو مبتلا نہ کرے ہے وہ مقتول کافر نعمت اپنے قاتل کو جو دعا نہ کرے رو مرے کو خدا قیامت تک پشت پا سے تری جدا نہ کرے ناصحو یہ بھی کچھ نصیحت ہے کہ یقیںؔ یار سے وفا نہ کرے